نئی دہلی،23؍اگست(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) راجدھانی کے باہری دہلی میں اس وقت ہنگامہ ہو گیا جب کچھ لوگوں نے عیدالاضحی کے موقع پر علاقے گؤ کشی کی افواہ پھیلا دی ۔جس کے بعد بڑی تعداد میں ہندو نواز تنظیم کے ارکان ایک کوڑے دان کے پاس جمع ہو گئے اور ہنگامہ آرائی کرنے لگے۔پولس نے مستعدی کے ساتھ حالات کو سنبھالا اور سیکورٹی میں اضافہ کر دیا۔
موصولہ اطلاع کے مطابق یہ واقع باہری دہلی کے میاں والی نگرمیں پیش آیا۔ایک کوڑے دان کے پاس موجود قربانی کے باقی ماندہ اعضاء کو گائے کی قربانی قرار دیتے ہوئے ہنگامہ شروع کر دیا گیا۔ اس حادثہ کے بعد انتظامیہ محتاط ہوگیا اورسیکورٹی کے انتظامات کوسخت کردیا گیا ہے۔وشوہندو پریشد کے کارکنان سمیت تقریباً 600 لوگ ایم سی ڈی کے ایک کوڑے دان کے قریب جمع ہوگئے، جہاں جانوروں کے باقی ماندہ اعضا پھینکے گئے تھے۔ وہ سبھی الزام لگارہے تھے کہ یہ اعضا گائے کے ہیں اورہنگامہ کرنے لگے۔ پولیس کسی بھی کشیدگی کوروکنے کے لئے جائے واردات پر پہنچی اورباقی ماندہ اعضا کو ضبط کرلیا ہے۔
پولیس ڈپٹی کمشنر( بیرونی) سیجوکروولا نے بتایا کہ علاقے میں پولیس کی ٹیم کو تعینات کردیا گیا ہے اورسیمپل ٹیسٹ کے لئے بھیجا گیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ بھیڑکومنتشرکردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں راجستھان کے الورضلع میں موب لنچنگ کا ایک نیا معاملہ سامنے آیا تھا۔ جہاں رام گڑھ میں گائے اسمگلنگ کے شک مین ہریانہ کے رہنے والے ایک شخص اکبر خان کی بھیڑنے پیٹ پیٹ کرقتل کردیا تھا۔